بھٹکل 25/ جون (ایس او نیوز) کورونا لاک ڈاون میں 21 جون سے چھوٹ دینے کے بعد سنیچر اور اتوار کو ہفتہ واری (ویکینڈ) کرفیو جاری رکھا گیا تھا، مگراب حکومت کرناٹک نے اعلان کیا ہے کہ ویکینڈ کرفیو کے دوران صبح چھ بجے سے دوپہر دو بجے تک ضروری اشیاء کی دکانوں سمیت دودھ ، فروٹس و ترکاری کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ البتہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ چھوٹ صرف اُن 19 اضلاع میں رہے گی جہاں کورونا کے معاملات کم ہونے کی وجہ سے 21 جون سے لاک ڈاون میں چھوٹ دی گئی ہے۔
بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ممتادیوی نے بتایا کہ اس چھوٹ کے دوران کپڑوں اور دیگر اشیاء کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت نہیں رہے گی صرف ضروری اشیاء کی دکانوں بالخصوص کھانےپینے ، دودھ، ترکاری اور فروٹس وغیرہ کی دکانوں کو ہی کھولنے کی اجازت ہوگی، ساتھ ساتھ سنیچر اور اتوار کو بازاروں میں بھیڑ جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسی طرح ماسک پہننے سمیت سماجی فاصلہ اور دیگر کووڈ گائیڈلائنس پر عمل کرنا بھی ضروری ہوگا۔
اُدھرپڑوسی ضلع دکشن کنڑا کے مینگلور میں ڈپٹی کمشنر راجیندر نے ویکینڈ کرفیو کے موقع پر سنیچر اور اتوار کو دوپہر دو بجے تک صرف میڈیکل اسٹورس، دودھ اور سرکاری دفاتر کو کھولنے کی اجازت کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کی ہے۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر آف پولس ہری رام شنکر نے اعلان کیا ہے کہ مینگلور میں لاک ڈاون میں سختی برتی جائے گی اور دوپہر دو بجے تک جن چیزوں کی خرید وفروخت کی اجازت دی گئی ہے، اُس کے علاوہ گھروں سے باہر نکلنے پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ انہوں نے عوام الناس کو متنبہ کرتےہوئے کہا کہ ہم نے اپنے اہلکاروں کو ہدایات دی ہیں کہ اُنہیں سواریوں کو ضبط کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ہری رام شنکر نے بتایا کہ سنیچر اور اتوار کو ویکینڈ کرفیو کے دوران میڈیکل ایمرجنسی رہنے پر لوگوں کو سفر کی اجازت رہے گی اور ڈیلیوری بوائے کو کھانے کا پارسل گھروں تک پہنچانے کی اجازت ہوگی۔ان کو چھوڑ کر اگر کوئی گھروں سے باہر نکلتا ہے تو پھر اُن کی سواریوں کو ضبط کیا جائے گا۔.